پاکستان نے اپنی پہلی بین الاقوامی فیری سروس کا لائسنس جاری کر دیا ہے، جو کراچی اور گوادر کو ایران اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک سے جوڑے گا۔ یہ پیش رفت علاقائی تجارت، مذہبی سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کے تحت ایک بین الاقوامی کمپنی کو پاکستان سے قریبی بندرگاہوں کے لیے فیری سروس شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس میں ابتدائی مرحلے میں محفوظ اور جدید مسافر جہاز شامل ہوں گے۔ مستقبل میں روٹس کی توسیع کا انحصار طلب اور بین الاقوامی معاہدوں پر ہو گا۔
وفاقی وزیر جنید انور چوہدری نے کہا کہ یہ پیش رفت وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور قومی بحری پالیسی کی روشنی میں ایک قابلِ ذکر کامیابی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق فیری سروس نہ صرف زائرین اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سفری سہولت فراہم کرے گی بلکہ ہوائی سفر کا کم خرچ متبادل بھی ثابت ہو گی۔
حکام کو توقع ہے کہ اس اقدام سے اربعین جیسے مواقع پر زمینی بارڈر پر دباؤ میں کمی آئے گی، اور ساتھ ہی پاکستان کی نیلی معیشت، سمندری سیاحت اور تجارتی رسد میں نمایاں بہتری آئے گی۔
گزشتہ ماہ پانچ نجی کمپنیوں نے گوادر سے خلیجی ممالک کے درمیان فیری سروس کے لیے اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی۔




