پاکستان
Trending

دوغلی دنیا کی دو رخی ذہنیت

تحریر: مصطفے’ صفدر بیگ

دنیا کے سیاسی ایوانوں اور ذرائع ابلاغ کے میناروں پر نگاہ ڈالیں، تو ایک عجیب اور دلخراش منظرنامہ ابھرتا ہے۔ یہاں انصاف کے ترازو میں ایک ایسا بدنما اور شرم سے عاری جھکائو دکھائی دیتا ہے جو آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔
طاقتور دنیا نے ایک ایسا بیانیہ تراش لیا ہے ، جس میں ظلم کے رنگ اور انصاف کے معیار یکسر بدل جاتے ہیں۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں ، جس جرات مندی اور تاریخی سچائی سے یہ پردہ چاک کیا، وہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستانی مندوب نے الفاظ چبائے بغیر اقوام عالم کے سامنے سوال رکھا کہ آخر کیوں اس فہرست میں جو امن دشمنوں کے ناموں سے بھری ہوئی ہے، ہر نام مسلمان ہی کا ہوتا ہے، کیا بدی کا چہرہ صرف ایک ہی رنگ رکھتا ہے؟ پاکستان کا استفسار محض الفاظ نہیں تھے، بلکہ عرصہ دراز سے مقفل انصاف کی دہلیز پر ، ایک زوردار دستک ہے، جس سے اقوام متحدہ کے دروبام ہلتے ہوئے محسوس ہوئے۔
یہ دوہرا معیار محض شکایت نہیں ہے ، بلکہ عالمی ضمیر کے چہرے پر پڑی ایک ایسی گرد ہے ، جو سانس لینا مشکل کر دیتی ہے، جب کوئی مسلمان نوجوان انتہاپسندی کے جال میں پھنس کر کوئی خونریز واردات کرے ، تو پورا عالم مغرب اسے مذہب کا حوالہ دے کر ایک تہذیب پر فرد جرم عائد کر دیتا ہے، ذرائع ابلاغ اسے اس طرح اچھالتے ہیں کہ گویا برائی کا سرچشمہ صرف ایک ہی سمت میں ہے۔
لیکن جب کوئی غیر مسلم شدت پسند، مثلا سفید فاموں کی فوقیت کا پرستار ، واشنگٹن کے کسی اسکول یا نیویارک کے کسی شاپنگ مال میں معصوم جانوں کا قتل عام کردے تو یکایک بیانیہ بدل جاتا ہے۔
تب اس حملہ آور کے ذہنی عدم توازن کی داستانیں سنائی جاتی ہیں، اس کی تنہائی اور محرومیوں کو بہانے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور پورے مذہب کو لیبل کرنے کے بجائے جرم کو محض ایک شخص کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ مسلمان مجرم کے ساتھ پورا آن کی آن میں ایک "خیالی نیٹ ورک” جوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ روش نہ صرف انصاف کا خون ہے بلکہ انتہاپسند عناصر کے لیے ایندھن بھی فراہم کرتی ہے۔
جب عالمی ضمیر خود اپنے ہاتھوں سے انصاف کی بنیاد کھوکھلی کرتا ہے تو شدت پسند گروہ اس سے زہر کشید کرتے ہیں، وہ نوجوانوں کو یہ باور کرانے لگتے ہیں کہ یہ جنگ کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ پوری امت کے خلاف ہے، یہ احساس ان کے دلوں میں نفرت کی وہ چنگاری بھڑکا دیتا ہے، جو آگ میں بدل کر ، امن اور سکون کو جلا دیتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے بجا فرمایا کہ یہ دوہرا رویہ امن دشمنوں کو آکسیجن فراہم کرتا ہے۔
یہ معاملہ محض ایک فکری قضیہ نہیں رہا، اس کے اثرات زمین پر اتر کر لہو میں رنگے جا رہے ہیں۔ پاکستان وہ سرزمین ہے، جس نے اس رویے کی قیمت اپنے جگر گوشوں کے خون سے ادا کی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندے نے جو حقائق بیان کیے ، وہ لرزہ خیز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سرحد پار پناہ گزین امن دشمن جتھے، یعنی ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے ناپاک اتحاد، اپنے پنجے گاڑ رہے ہیں۔ یہ امن دشمن گروہ ہمارے شہروں کے امن ، ہمارے منصوبوں کے خواب اور ہمارے معصوم شہریوں کی زندگیاں تاراج کر رہے ہیں، افسوس یہ ہے کہ افغان سرزمین پر پناہ لینے والے یہ عناصر ہمارے لیے براہ راست خطرہ بن چکے ہیں، اور عالمی برادری اس پر بھی آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔
یہ منظرنامہ ہمیں دعوت فکر دیتا ہے، سوال یہ ہے کہ انصاف کا توازن کب قائم ہوگا، ظلم کا چہرہ کب بغیر کسی مذہبی شناخت کے پہچانا جائے گا؟ اور کب عالمی ایوانوں میں انسانی خون کے رنگ کو مذہب اور نسل کے ترازو میں تولا جانا بند ہوگا؟
یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آن کھڑا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ٹھوس شواہد اور کھلے حقائق کے باوجود عالمی برادری کی آنکھوں پر غفلت کی دبیز پٹی بندھی ہوئی ہے؟ وہ طاقتور ممالک جو انسانی بقا اور امن کے محافظ بننے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے، وہ کیوں ان مسلح گروہوں کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھانے سے ہچکچاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ اس وقت ان کے نشانے پر ان کے اپنے مفادات نہیں ہیں؟ یا پھر یہ مصلحتوں کا جادو ہے کہ وہ صرف انہی گروہوں کو نشان عبرت بنانے پر آمادہ ہوتے ہیں، جو عالم مغرب کے اپنے قلعوں کی فصیلوں کو ہلانے کی جسارت کریں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ رویہ عالمی امن کے لیے کسی ناسور سے کم نہیں۔
یاد رکھیں کہ انتہا پسندی اور خون آشامی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا عفریت ہے ، جو نہ کسی سرحد کو جانتا ہے اور نہ ہی رنگ و نسل کو پہچانتا ہے ، یہ سانپ ہر آشیانے میں گھس سکتا ہے اور ہر مقدس دیوار پر رینگ سکتا ہے، اسے کسی مخصوص مذہب یا قوم کے سانچے میں ڈالنا، محض حقیقت سے فرار ہے اور اس جنگ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
جب تک ہر مسلح گروہ، خواہ وہ کسی بھی نظریے یا خطے سے تعلق رکھتا ہو، اسے یکساں احتساب کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا ، تب تک اس آفت کا قلع قمع محض ایک خواب ہی رہے گا۔
دنیا کے بڑے ایوانوں، بالخصوص سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو اپنے رویے کی اس دو رخی سے توبہ کرنی ہوگی۔ ظلم کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک ایسی تعریف وضع کرنا لازم ہے، جو رنگ، نسل، عقیدے اور جغرافیے کی عینک کے بغیر ہو۔
اقوام متحدہ کی مرتب کردہ دہشت گردوں کی فہرستوں میں نام شامل کرنے کا عمل سیاسی مفادات اور وقتی حکمت عملی سے بلند ہو کر ، صرف انسانیت اور انصاف کے معیار پر پرکھا جائے۔
یہ عدل کا تقاضا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کی فریاد کو سنا جائے اور ان امن دشمن گروہوں کے خلاف بروقت اور غیر مشروط اقدام کیا جائے، جنہوں نے معصوم جانوں کو خاک و خون میں نہلایا، ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کیا اور امن کے چراغ بجھانے کی کوشش کی۔
ورنہ تاریخ کی عدالت بڑے بے رحم فیصلے سناتی ہے، تاریخ ایسے دور کو ریاکاری اور منافقت کے عنوان سے رقم کرے گی، تاریخ لکھے گی کہ اس دور میں انصاف کی تلوار کند اور اندھی تھی ، اور انصاف کا پیمانہ ٹیڑھا تھا۔ تاریخ گواہی دے گی کہ اس کج روی نے انتہا پسندی کی آگ کو بجھانے کے بجائے اور بھڑکایا۔
وقت آگیا ہے کہ دنیا کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے ، ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں خون خرابے کی مذمت ہر مذہب، ہر نسل اور ہر خطے کے لیے یکساں ہو، یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک ایسی دنیا کی طرف لے جا سکتا ہے ، جہاں امن خواب نہیں، حقیقت ہو جہاں مظلوم کی آہ سنی جائے اور جہاں کسی کا خون رائیگاں نہ جائے۔

 

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button