اسلام آباد:
پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں — پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی — نے ایک مرتبہ پھر انتخابی تعاون کا ہاتھ تھامتے ہوئے آئندہ ضمنی انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کو ملکی سیاسی منظرنامے میں سیاسی بلوغت اور باہمی افہام و تفہیم کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، دونوں جماعتوں کی قیادت کے مابین حالیہ ملاقات میں نشستوں کی تقسیم اور انتخابی تعاون سے متعلق فارمولے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت ہر جماعت ان حلقوں میں امیدوار کھڑا کرے گی جہاں وہ گزشتہ انتخابات میں نسبتاً بہتر پوزیشن میں تھی، جبکہ دوسری جماعت حمایت فراہم کرے گی۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف انتخابی حکمت عملی نہیں، بلکہ ایک ایسا قدم ہے جو ملک میں سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور عوامی نمائندگی کے معیار کو بلند کرے گا۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر حنیف عباسی نے اس فیصلے کو قومی مفاد میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم نے طے کیا ہے کہ اختلافات سے بالا ہو کر وہ حکمت عملی اپنائیں جو ملک کو انتشار سے بچا کر ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ اتحاد نہ صرف انتخابی میدان میں مشترکہ طاقت بن کر ابھرے گا، بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے لیے انتخابی دباؤ میں اضافہ کا باعث بھی بن سکتا ہے، خاص طور پر اُن حلقوں میں جہاں مقابلہ سخت ہے۔
مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ اشتراک مستقبل میں دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی سیاسی اعتماد کی مضبوطی کا سبب بن سکتا ہے، جو پارلیمانی اور قومی سیاست پر دیرپا اثرات ڈال سکتا ہے۔




