پاکستان
Trending

پاکستان کا "ٹرمپ” کارڈ

تحریر: مصطفے صفدر بیگ

بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سیاست اس وقت ایک ایسا تماشہ بن چکی ہے۔ اس تماشے کا ہر پردہ نیا منظر دکھاتا ہے ، اور ہر منظر نئی گرہ باندھتا ہے۔اس تماشے کے عین وسط میں ایک طرف پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات ہیں اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ پرشور دعویٰ ہے ، کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے امن پسند رہنما ہیں ، یعنی جنگوں کے رکے ہوئے پہیے کے چوکیدار اور عالمی سفارت کاری کے جادوگر۔
گزشتہ تین ماہ میں صدر ٹرمپ نے کئی بار اس بات کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی ، کہ مئی کے مہینے میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی آگ پوری شدت سے بھڑکنے والی تھی تو انہوں نے اسے ٹھنڈا کیا۔مگر یہ داستان محض امن کی سفارت کاری نہیں ، بلکہ سیاسی مفاد کی وہ شطرنج بھی ہے ، جہاں ہر بازی اپنے فائدے کے لیے کھیلی جاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بار بار دنیا کو یہ بتایا کہ اس جنگ میں پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے تھے ، اور آج تو سات بھارتی طیارے مار گرانے کا اعلان کردیا ہے۔یہ جملہ بھارتی ایوان اقتدار کے لیے گویا ایک تیر تھا جو ہندوستانیوں کے دل کی گہرائیوں تک پیوست ہوگیا۔
اپنے عوام کو ہر وقت اپنی فضائیہ کی ناقابل تسخیر قوت کے ترانے سنانے والا بھارتی میڈیا ، اس اعتراف سے سناٹے میں آگیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان محض ایک خبر نہیں ، بلکہ خطے کی سیاست کے ایک نئے باب کا عنوان بن چکا ہے۔
بھارت برسوں سے اپنے آپ کو خطے کا بے تاج بادشاہ، ناقابل شکست فوجی طاقت اور چودھری کے طور پر پیش کرتا چلا آیا ہے۔
مگر جب ایک مختصر سی فضائی جھڑپ میں اس کے سات جنگی جہاز خاک میں مل گئے ، اور یہ راز امریکی صدر کی زبان سے افشا ہوا ، تو یہ بھارتی غرور کے تاج پر بجلی بن کر گرا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف یہ کہا ، بلکہ اسے اپنی امن قائم کرنے کی "صلاحیت” کا ثبوت بھی قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے سامنے ٹرمپ کا یہ جملہ دراصل ان کے نزدیک بڑی عالمی سفارتی کامیابی کا وہ تمغہ تھا ، جو انہوں نے خود اپنے سینے پر آویزاں کرلیا۔
درحقیقت یہ واقعہ صدر ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی کھیل بھی تھا ، جسے انہوں نے اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے بھی خوب بیچا ہے۔
جس جنگ کو روکنے میں ان کا کردار محدود تھا ، اسے وہ اپنی عظمت کا مینار بنا کر پیش کر رہے ہیں ، گویا دنیا کے امن کا چراغ صرف انہی کے ہاتھوں روشن ہےلیکن پاکستان اور بھارت دونوں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایٹمی جنگ کا مطلب تباہی اور نیست و نابود ہونے کے سوا کچھ نہیں۔
پاکستان نے تو ابتدا ہی سے اپنا مؤقف صاف رکھا ہے کہ وہ کسی صورت جنگ کا آغاز نہیں کرے گا ، لیکن اگر اس پر حملہ ہوا تو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے وہ ہر قیمت چکانے کو تیار ہے۔پاکستان کی حکمت عملی ہمیشہ استحکام اور ذمہ داری کی علامت رہی ہے ، جبکہ بھارت نے داخلی انتخابی مفادات کے لیے ہمیشہ پڑوسیوں کے خلاف جارحیت کا سہارا لیا ہے ، گویا سیاست کی خاطر جنگ کا شعلہ بھڑکانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔
راحت اندوری نے اسی لیے تو کہا تھا
سرحدوں پر بہت تنائو ہے کیا
کچھ پتہ تو کرو چنائو ہے کیا
دوستو! یوں خطے کی سیاست کے اس تھیٹر میں ایک طرف سفارتکاری کے خوشنما مکالمے ہیں ، تو دوسری طرف طاقت کے غرور اور انتخابی مفاد کا المیہ ہے۔مگر اس سب کے بیچ ایک حقیقت سورج کی طرح روشن ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے باب میں کوئی مصلحت نہیں ہے۔
اور بھارت کا گھمنڈ حقیقت کے امتحان میں بار بار پگھلتا دکھائی دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے نئے بیان نے بھارت کو جس شرمندگی اور سبکی سے ایک بار پھر دوچار کیا ہے ، اس کی مثال شاید ہی عالمی سفارت کاری کے کسی اور باب میں ملتی ہو۔
ابتدا میں بھارتی حکومت اور اس کا متکبر میڈیا پاکستان کی جانب سے طیارے مار گرائے جانے کے دعوے کو جھٹلاتا رہا
مگر جب امریکی صدر کی زبان سے یہ تصدیق ہوئی ، تو نئی دہلی کے ایوانوں کی دیواروں سے غرور کے وہ سب نقوش مٹ گئے ، جو برسوں سے بڑے فخر سے کندہ کیے گئے تھے۔عالمی منظرنامے پر بھارت کی وہ مصنوعی عظمت جو اس نے بڑے جتنوں سے تراشی تھی ، لمحوں میں بکھر سی گئی۔یہی نہیں بلکہ صدر ٹرمپ نے اس واقعے کو بار بار دہرا کر ، گویا بھارتی ناکامی کو دنیا کے سامنے آئینے کی طرح رکھ دیا ہے۔
یہ بھارتی غرور کے سینے میں پیوست ایک کانٹا ہے ، اور اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات یہ ہے ، کہ یہ وار اس کے اسی دوست کے ہاتھوں ہوا ہے ، جسے وہ اپنا سٹریٹجک شراکت دار قرار دیتا آیا ہے۔
اب امریکی صدر خود اس کی شکست کو الفاظ کا جامہ پہنا رہے ہیں ، تو بھارت کیلئے شرمندگی کا تاثر ہر بار اور گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہ صورتِ حال بھارتی خارجہ پالیسی کے لیے ایک کڑا امتحان بھی ہے۔دہلی ایک جانب دنیا کو اپنی عسکری طاقت اور ناقابل تسخیر حیثیت کے خواب دکھاتا ہے ، تو دوسری جانب عملی میدان میں اس کی کمزوریاں روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہیں۔اس کے برعکس ، پاکستان نے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کا علم بلند رکھا ہے۔
پاکستان نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی فضائی حدود کا تحفظ کرسکتا ہے بلکہ کسی بھی جارحیت کا دوٹوک اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
پاک فضائیہ کی حالیہ کارکردگی نے دنیا کو باور کرادیا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کی دیوار پر ذرا بھی دراڑ نہیں آنے دے گا ، چاہے اس کے لیے کسی بھی قربانی سے کیوں نہ گزرنا پڑے۔صدر ٹرمپ کے تازہ بیان نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی گرہ بھی ڈال دی ہے۔
وہ گرہ یہ ہے ، کہ کیا امریکہ واقعی خطے میں امن قائم کرنے کا حقیقی خواہاں ہے ، یا یہ بھی محض عالمی مفادات کے کھیل کا ایک باب ہے؟
کیا بھارت اب بھی اپنے آپ کو خطے کا "چودھری” کہہ سکے گا ؟ یا اسے اپنی عسکری اور سفارتی حکمت عملی پر ازسرِ نو غور کرنا ہوگا؟
ان سوالوں کے جوابات وقت ہی بتائے گا ، لیکن ایک امر بالکل واضح ہے کہ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور وقار کی حفاظت کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صدر ٹرمپ کے الفاظ نے بھارت کی خودساختہ برتری کے بت کو ایک مرتبہ پھر چکناچور کر دیا ہے۔
اب وقت کا تقاضا ہے کہ بھارت جارحانہ روش کو ترک کرے ، اور خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ بیٹھے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی راکھ میں کبھی امن کا پھول نہیں کھلتا ، اور پاکستان نے تو ہر موڑ پر امن کا پرچم تھامے رکھا ہے۔
عالمی برادری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، کہ وہ بھارت کو مجبور کرے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ روکے ، اور کشمیری عوام کی صدا کو کان لگا کر سنے۔
اگر صدر ٹرمپ واقعی امن کے دعوے دار ہیں تو انہیں صرف بھارت اور پاکستان کے بیچ سفارتی توازن قائم کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ انہیں مقبوضہ کشمیر کے ستم رسیدہ عوام کی حالت زار پر بھی وہی توجہ دینی چاہیے ، جسے وہ اپنی سفارتی کامیابی کا عنوان بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کیلئے "ٹرمپ” کارڈ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button