پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔ انہیں 90 ووٹ ملے، جس کے بعد وہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ اسمبلی کا اجلاس سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جہاں علی امین گنڈاپور ایوان میں پہنچے تو حکومتی ارکان نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔
اجلاس کا آغاز سپیکر بابر سلیم سواتی نے کیا، جنہوں نے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے عمل کا آغاز کرتے ہوئے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کی ہدایت دی تاکہ غیر حاضر اراکین اسمبلی واپس آ سکیں۔ اس دوران، سپیکر نے علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کی تصدیق بھی کی، جسے گورنر نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔ بابر سلیم سواتی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کے تمام لوازمات آئین کے مطابق تھے اور پارٹی چیئرمین نے سہیل آفریدی کو نامزد کیا تھا۔
علی امین گنڈاپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سہیل آفریدی کو پیشگی مبارک باد دیتے ہیں اور پی ٹی آئی کی حکومت کی کامیابی کے لیے قانون کی بالادستی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی، تو صرف پندرہ دن کی تنخواہیں بچی تھیں، لیکن اپوزیشن کو فنڈز نہ دینے کے باوجود انہوں نے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کروائے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان اور عوام کی خدمت ہے۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا اور اس وجہ سے ایک وزیر اعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے وزیر اعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو معاملہ متنازع بنانے کے بجائے قانون کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
سپیکر بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن لیڈر کے اعتراضات کے جواب میں کہا کہ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کو آئین کے مطابق تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے بعد ہی انتخاب کا عمل مکمل ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے قائد ایوان کا انتخاب آئین کے مطابق ہو گا۔
اجلاس کے دوران شور شرابہ ہونے پر سپیکر نے گیلری میں موجود افراد کو خبردار کیا کہ اگر وہ خاموش نہیں ہوتے تو اجلاس کی کارروائی روک کر انہیں باہر نکال دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی سمیت 4 امیدوار میدان میں تھے، جن میں جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمان، پیپلز پارٹی کے ارباب زرک، اور ن لیگ کے سردار شاہ جہان بھی شامل تھے۔ اپوزیشن جماعتیں کسی ایک امیدوار پر متفق نہیں ہو سکیں، جبکہ پی ٹی آئی نے بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب کرانے کے لیے ن لیگ اور اے این پی سے بھی تعاون کی درخواست کی تھی۔




