اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو امداد پہنچانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا استعمال سب سے مؤثر راستہ ہے، اور ایسا نہ کرنا ریاستی نااہلی کے مترادف ہوگا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں آصفہ بھٹو نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب سے 40 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، اور بی آئی ایس پی کے پاس متاثرین تک براہِ راست اور شفاف انداز میں امداد پہنچانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا تھا کہ ریلیف پیکج حکومت پنجاب خود جاری کرے گی، اور بی آئی ایس پی کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم ان سے مشورہ نہیں لیں گے جنہوں نے سندھ کو کھنڈر بنا دیا۔”
آصفہ بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت — بلاول بھٹو اور شیری رحمٰن — مسلسل بی آئی ایس پی کے استعمال پر زور دیتی آ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام غریب عوام، خاص طور پر خواتین کو امداد پہنچانے کا قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔
ادھر رانا ثنا اللہ نے بھی بی آئی ایس پی کے استعمال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مالی حالات میں یہ نظام حکومت کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے، اور اسے یا تو بند یا ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔




