مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی بحران نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے کے باوجود وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے عہدہ چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
وزیراعظم انوارالحق نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہاکسی کے پاس نمبرز پورے ہیں تو عدم اعتماد لے آئیں۔ میں اکیلا آیا تھا مگر اب دوست ساتھ ہیں، ان کے بغیر نہیں جاؤں گا۔ جب تک اختیار ہے، فرائض انجام دیتا رہوں گا۔”
ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کو 36 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے، اور امکان ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد جمع ہوتے ہی وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔
ادھر آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورتی عمل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کا اعلان کریں گے۔
وزارتِ عظمیٰ کے لیے دو نام زیرِ غور ہیں ،سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر اور چوہدری یاسین، جن میں سے حتمی فیصلہ آج متوقع ہے۔
پارٹی حلقوں کے مطابق لطیف اکبر مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے سیاسی بحران پر مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت کرے گی تاہم حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاآزاد کشمیر میں انتظامی نااہلی کے باعث سیاسی بحران پیدا ہوا۔ ن لیگ اپنا جمہوری کردار ادا کرے گی اور نئی حکومت سے مطالبہ کرے گی کہ جلد از جلد آزادانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔”
اسی دوران، وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر امیر مقام نے کہا کہ “جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ تھا کہ حکومت سے علیحدگی اختیار کی جائے۔”
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست کے اگلے چند گھنٹے انتہائی اہم ہیں، اور آج ہی نئی حکومت کے خدوخال واضح ہونے کا امکان ہے۔




