لاہور: لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے، جس کے باعث شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 474 تک پہنچ چکا ہے، اور لاہور آج دوبارہ پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست آ گیا ہے۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے۔ سید مراتب علی روڈ پر اے کیو آئی 804، گلبرگ میں 678، ڈی ایچ اے میں 569، پنجاب یونیورسٹی کے اطراف میں 468 اور ماڈل ٹاؤن میں 471 ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پنجاب کے دیگر بڑے شہر بھی اس آلودگی سے شدید متاثر ہیں۔ فیصل آباد کا اے کیو آئی 626 تک پہنچ چکا ہے، جبکہ گوجرانوالہ میں یہ 515 تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو شدید مشورہ دیا ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں، غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں اور گھروں میں ایئر پیوریفائر کا استعمال بڑھائیں تاکہ صحت کے سنگین خطرات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آلودگی کی سب سے بڑی وجوہات میں فصلوں کی باقیات کا جلانا، بڑھتی ہوئی ٹریفک کی کثرت اور صنعتی اخراج شامل ہیں، جو کہ لاہور اور دیگر شہروں کی فضائی کیفیت کو بدترین بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اسی رفتار سے آلودگی میں اضافہ ہوتا رہا تو یہ انسانی صحت پر سنگین اثرات ڈال سکتا ہے۔




