بین الاقوامی
Trending

ایران میں مظاہرے: حکومت کی سخت پالیسی اور بین الاقوامی دباؤ کے درمیان کشیدگی

 

ایران میں جاری مظاہرے ملک گیر سطح پر پھیل چکے ہیں، جن میں اب تک 47 افراد ہلاک اور تقریباً 2200 گرفتار ہو چکے ہیں۔ تشدد کی کارروائیوں میں عوامی املاک، گاڑیاں، عمارتیں جلائی گئیں اور ایرانی پرچم پھاڑ دیا گیا۔ مظاہرین نے سابق فوجی رہنما قاسم سلیمانی کے مجسمے کو بھی گرا دیا، جو ملک میں سیاسی اور عسکری نمائندگی کے حساس علامات ہیں۔

حکومت نے انٹرنیٹ بند کر کے معلومات کے بہاؤ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے مظاہروں کی صورتحال کی آزادانہ رپورٹنگ مشکل ہو گئی ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کسی دباؤ کے آگے نہ جھکنے کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو اتحاد کی ہدایت دی اور خبردار کیا کہ ایران کرائے کے فوجیوں یا بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مظاہرین پر الزام لگایا کہ وہ امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر غیر ملکی مفادات کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔

یہ بیانات ایران کی حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسی کی دوہری حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں: ایک طرف سخت گیر موقف اور داخلی کنٹرول، اور دوسری طرف بیرونی اثر و رسوخ کے خلاف خبردار کرنا۔ یہ مظاہرے نہ صرف داخلی سیاسی کشیدگی کی علامت ہیں بلکہ ایران اور امریکا سمیت عالمی طاقتوں کے تعلقات میں تناؤ کو بھی واضح کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button