پاکستان
Trending

سفارتی تاریخ کا نیا باب: 12 سال بعد ڈھاکہ سے کراچی پروازوں کا آغاز، خواجہ آصف نے ‘پاک،بنگلہ بھائی چارہ’ کو معاشی لائف لائن قرار دے دیا

 

کراچی: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم فضائی تعطل آخر کار ختم ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے اس اہم کامیابی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک "عظیم سنگ میل” قرار دیتے ہوئے خوشخبری سنائی ہے کہ بنگلہ دیش ایئر لائن کی پہلی پرواز طویل وقفے کے بعد کراچی پہنچ گئی ہے۔
29 جنوری کی رات 11 بجے جب بنگلہ دیشی طیارہ 140 مسافروں کو لے کر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا، تو وہاں موجود عملے اور مسافروں کے چہروں پر خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا۔ ایئر لائن کو ہفتہ وار 3 پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں سے فی الحال 2 پروازیں کامیابی سے آپریٹ کی جا رہی ہیں۔
بنگلہ دیش نے آخری بار 2012 میں پاکستان کے لیے اپنی پروازیں چلائی تھیں، جبکہ پی آئی اے کا آپریشن 2018 سے بند تھا۔خواجہ آصف نے اس پیش رفت کے معاشی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ براہِ راست فضائی رابطے سے دونوں ممالک کی اقتصادیات کو زبردست فروغ ملے گا۔ انہوں نے قوی امید ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں دوطرفہ تجارت اور کارگو کی ترسیل میں کئی گنا اضافہ ہوگا، جو خطے کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مئی 2025 کے بعد سے بھارتی فضائی حدود کی بندش (بنیان ان مارسوس آپریشن کے باعث) کی وجہ سے پی آئی اے کے لیے بنگلہ دیش تک رسائی فی الحال ممکن نہیں ہے۔ تاہم، بنگلہ دیشی ایئر لائنز کا یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا ایک بہترین اور قابلِ عمل متبادل ثابت ہوا ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان کا اختتام ایک پُر اثر نعرے "پاکستان بنگلہ دیش بھائی چارہ زندہ باد” پر کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان بدلتی ہوئی سفارتی فضا اور مستقبل کی گہری دوستی کا واضح پیغام ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button