راولپنڈی،کراچی: سکیورٹی ذرائع نے وادیِ تیراہ کے حوالے سے پھیلائی جانے والی حالیہ خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ علاقے میں کسی بڑے فوجی آپریشن کا کوئی ارادہ نہیں ہے، بلکہ صرف ٹھوس انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر (IBOs) کیے جا رہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق تیراہ میں آپریشن سے متعلق تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ زمینی حقائق کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
عوام کی سہولت کے پیشِ نظر کوئی نئی چیک پوسٹ یا رکاوٹ قائم نہیں کی گئی تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔ موسمی حالات کے پیشِ نظر بھی فی الوقت کسی بڑے آپریشن کی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ اس کے لیے مناسب وقت ہے۔
ذرائع نے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جاری رہیں گی۔ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ اب پوری طرح آشکار ہو چکا ہے، اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ان کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قبائلی عوام اور معززین کو ہر فیصلے میں شامل رکھا جاتا ہے اور تمام اقدامات مقامی روایات کے عین مطابق ہوتے ہیں۔
بلوچستان کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے خبردار کیا کہ "احساسِ محرومی” کا نعرہ لگا کر معصوم شہریوں کو گمراہ کرنے والے دراصل صوبے کی ترقی کے دشمن ہیں۔ بلوچستان کے غیور عوام اب ان بیرونی آلہ کاروں کو پہچان چکے ہیں جو عوام کی خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔




