تہران :مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے چھٹنے لگے؛ ترکیہ، قطر اور مصر کے مشترکہ سفارتی مشن نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ ایران نے باضابطہ طور پر امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک ختم کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے ملکی مفاد اور علاقائی استحکام کی خاطر واشنگٹن کے ساتھ ‘بامقصد مذاکرات’ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صدر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کریں، تاہم مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کے وقت کو تزویراتی وجوہات کی بنا پر فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے۔
اس پیش رفت کو قطر، ترکیہ اور مصر کی ‘خاموش سفارت کاری’ کا ثمر قرار دیا جا رہا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا اہم ذریعہ رہا۔ ترکیہ نے مذاکرات کے لیے غیر جانبدار مقام کی پیشکش کی۔ مصر نے علاقائی تحفظات کو دور کرنے کے لیے پسِ پردہ کردار ادا کیا۔




