بین الاقوامی
Trending

افغانستان میں ‘شیڈو اکانومی’ کا راج: بینکنگ نظام مفلوج، سالانہ 5 ارب ڈالر کے غیر قانونی لین دین کا انکشاف

 

نیویارک/کابل: اقوام متحدہ (UNDP) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ نے افغانستان کے مالیاتی ڈھانچے کی تباہی کا کچا چھٹا کھول دیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان دور میں نافذ العمل سخت گیر پالیسیوں اور دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرپرستی نے ملک کو ایک ایسے معاشی گرداب میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مشکل نظر آتا ہے۔
انتہا پسندانہ فیصلوں اور غیر یقینی سکیورٹی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ عالمی مارکیٹ سے کٹ جانے کی وجہ سے نئی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ جدید دور کے برعکس، افغانستان کی صرف 6 فیصد آبادی رسمی بینکنگ سہولیات تک رسائی رکھتی ہے۔ عوام کا بینکوں پر اعتماد ختم ہونے سے مالیاتی نظام مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بینکنگ چینلز کی بندش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سالانہ 5 ارب ڈالر کی خطیر رقم غیر قانونی ‘حوالہ ہنڈی’ کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے، جو منی لانڈرنگ کے لیے ایک کھلا راستہ ہے۔
اقوام متحدہ نے اس بحران کی تین بڑی وجوہات بیان کی ہیں، طالبان حکومت کے سخت گیر اور غیر لچکدار فیصلے جن کی وجہ سے عالمی پابندیاں برقرار ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی جس نے سرمایہ کاروں میں خوف پیدا کر دیا ہے۔ ملکی معیشت کا دستاویزی شکل سے محروم ہونا اور غیر قانونی ذرائع پر انحصار ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button