لاہور: پنجاب حکومت نے ‘رمضان نگہبان پیکج’ کے ذریعے عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم کر دی ہے، جہاں جدید سروے کے ذریعے حق داروں کی دہلیز پر امداد پہنچائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے خیبر پختونخوا حکومت کو عوامی ریلیف کے معاملے پر ‘نااہل’ قرار دیتے ہوئے ان کی ترجیحات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پنجاب بھر میں 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو ‘رمضان نگہبان کارڈز’ جاری کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے وژن کے تحت امداد کی تقسیم کے لیے شفاف سروے کو بنیاد بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی مستحق محروم نہ رہے۔وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اب تک رمضان پیکج کا خاکہ تک پیش نہیں کر سکی۔ انہوں نے طنزاً کہا: "کے پی حکومت کے نزدیک بانی پی ٹی آئی کی آنکھ، دانت اور جیل کی سہولیات غریب کے رمضان سے زیادہ اہم ہیں۔
عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ کے پی حکومت کا سارا زور ‘رہائی فورس’ کی تشکیل اور نیا سیاسی فتنہ کھڑا کرنے پر ہے، جبکہ پنجاب حکومت کا فوکس صرف اور صرف عوام کی خدمت ہے۔
پنجاب میں امدادی سامان کی ترسیل کے لیے "ہوم ڈیلیوری” کا طریقہ اپنایا گیا ہے، جس کا مقصد مستحقین کی عزتِ نفس کا تحفظ کرنا ہے، جبکہ کے پی میں اب تک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پنجاب کا ‘رمضان نگہبان پیکج’ ایک منظم گورننس کی عکاسی کر رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں حکومتی توجہ کا رخ عوامی فلاح کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کی طرف زیادہ نظر آ رہا ہے




