تہران: ایران میں مختلف شہروں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 200 طیاروں نے 24 صوبوں میں 500 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق 201 افراد شہید اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ایک گرلز اسکول پر حملے میں 85 طالبات کے جاں بحق اور 75 کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی دی گئی ہے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔
حکام کے مطابق شمال مغربی شہر زنجان میں قائم ایک اسلحہ ڈپو تباہ ہوگیا، جبکہ دیگر عسکری اور حساس تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امدادی ٹیمیں مختلف علاقوں میں سرچ اور ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
حملوں کے بعد ایران نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے بندش کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن نے اپنے جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے دور رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
بین الاقوامی برادری نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔




