تہران: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے روایتی "جوابی کارروائی” کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے "مسلسل حملوں” کی نئی جنگی حکمت عملی کا اعلان کر دیا۔ آپریشن ‘وعدہ صدق 4’ کے تحت امریکی اور اسرائیلی اہداف پر میزائلوں کی 39ویں لہر نے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، تازہ ترین حملے ‘یا امیرالمومنین’ کے کوڈ نام سے کیے گئے، جن میں ایران نے اپنی میزائل ٹیکنالوجی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران اب کسی حملے کا انتظار نہیں کرے گا۔ "اب حکمت عملی یہ ہے کہ مسلسل حملے کیے جائیں گے جب تک مخالف فریق کو مکمل سزا نہ مل جائے اور اسے اپنے اقدامات پر پچھتاوا نہ ہو۔ خلیج فارس میں موجود امریکی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنا کر ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ خطے میں امریکی موجودگی کو چیلنج کر رہا ہے۔
گزشتہ 11 دنوں سے مسلسل بجنے والے سائرن اور آبادی کا پناہ گاہوں میں محصور ہونا اسرائیل کے دفاعی نظام (Iron Dome) پر شدید دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ مزاحمتی بلاک کا اتحاد: ایران نے خطے میں موجود اپنی حامی قوتوں (Proxy Forces) کے کردار کو سراہا ہے، جو ایرانی میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ اپنی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ پوری مہم سابق چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل امیر موسوی اور دیگر شہداء کی قربانیوں کے نام کی گئی ہے۔




