اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ملک دشمن عناصر اور فتنہ الخوارج کے خلاف جاری "آپریشن غضب للحق” کی حالیہ پیش رفت جاری کرتے ہوئے اسے ملکی دفاع کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور ان کی لاجسٹک سپلائی لائن کو مفلوج کر دیا ہے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق، اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل درج ذیل ہے۔کارروائیوں میں فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے 641 کارندے ہلاک اور 855 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ دشمن کی دفاعی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے 219 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔ مجموعی طور پر 243 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں، جبکہ 42 پوسٹوں پر سیکیورٹی فورسز نے قبضہ کر کے انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر 65 مختلف مقامات پر فضائی ضربیں لگائی گئیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو نیست و نابود کرنا تھا۔ خاص طور پر ژوب سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹوں کو اس حد تک دباؤ میں لایا گیا کہ وہ اپنا اسلحہ اور اہم سامان چھوڑ کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاستِ پاکستان اپنی حدود میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا دہشت گردی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا "آپریشن غضب للحق محض ایک جوابی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کا ایک جامع منصوبہ ہے، جو اپنے منطقی انجام تک بلا تعطل جاری رہے گا۔




