کراچی: سندھ کی سیاست میں ایک نیا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر ایم کیو ایم پاکستان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی اتحاد سے الگ ہونے پر غور شروع کر دیا ہے۔ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کے اس رویے کو "سیاسی بددیانتی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اہم حلیف جماعت ہونے کے ناطے ہمیں اعتماد میں لینا ضروری تھا، لیکن افسوس کہ اس تبدیلی کا علم ہمیں بھی عوام کی طرح میڈیا کے ذریعے ہوا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت نے باقاعدہ مشاورت کے بجائے یکطرفہ فیصلہ کیا اور اتحادیوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی۔ فاروق ستار نے یاد دہانی کروائی کہ سیاسی روایات کے مطابق سندھ کی گورنر شپ ہمیشہ ایم کیو ایم پاکستان کا استحقاق رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں وفاقی کابینہ سے علیحدگی سمیت دیگر سخت آپشنز پر مشاورت کی جائے گی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم وفاقی حکومت سے علیحدہ ہوتی ہے تو اسلام آباد میں اقتدار کا توازن بگڑ سکتا ہے، جس کے اثرات ملکی سیاست پر دور رس ہوں گے۔




