واشنگٹن/تہران: مشرق وسطیٰ میں جنگ اور امن کے درمیان لٹکی صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین حکام نے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات جاری کیے۔ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے ‘بلیک میل’ نہ ہونے کا اعلان کیا تو تہران سے باقر قالیباف نے امریکی حکمت عملی کو ‘بھونڈا فیصلہ’ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے امریکی ناکہ بندی کے اعلان پر برس پڑتے ہوئے کہا کہ یہ ایک "بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ” ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ناکہ بندی یا دھمکیوں سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔
ایرانی حکام کے مطابق اگرچہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن فریقین کے درمیان "اب بھی بہت فاصلہ” موجود ہے، جس کی وجہ سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔
امریکی صدر نے سچویشن روم میں اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دوٹوک کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر کے امریکہ پر دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ انہوں نے ناکہ بندی کو اپنا حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو بلیک میلنگ کا موقع نہیں دیں گے۔



