اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے اہم اجلاس سے قبل جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھ کر معاملے میں نئی روح پھونک دی ہے۔ جسٹس بابر ستار نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے تبادلے کے حوالے سے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے کمیشن انہیں ذاتی طور پر سنے۔
جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ ججز کے تبادلے کا معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ آئینی ہے۔ خط میں استدعا کی گئی ہے کہ آرٹیکل 200 کے تحت تبادلے کے معاملے پر غور کرنے سے پہلے کمیشن کے اجلاس میں انہیں پیش ہو کر اپنا موقف دینے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے زور دیا ہے کہ کسی بھی جج کے مستقبل کا فیصلہ کرنے سے قبل اسے سنے جانا عدالتی روایات اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے۔آج ہونے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی منتقلی زیرِ غور آنی ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار کا نام ان ججز کی فہرست میں شامل ہے جنہیں آج ٹرانسفر کیے جانے کا امکان ہے۔ جسٹس بابر ستار کے اس خط نے کمیشن کے سامنے ایک قانونی سوال کھڑا کر دیا ہے، جس سے اجلاس کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔




