اسلام آباد/واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان میں پیش کی گئی ایک حالیہ قرارداد نے پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ قرارداد میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان "امن کا پل” قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی نے خطے کو ایک ہولناک فوجی تصادم سے بچایا۔
قرارداد کے متن میں خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے بحال کرانے کے لیے بھاری قیمت چکائی۔ متن کے مطابق پاکستان نے سفارتی وفود کی میزبانی کے لیے نہ صرف اپنے وسائل استعمال کیے بلکہ علاقائی تناؤ کے دوران انتہائی مشکل اور حساس پوزیشن اختیار کی۔
پاکستان نے اپنی سرزمین اور سیاسی اثر و رسوخ کو کسی ایک ملک کے حق میں استعمال کرنے کے بجائے غیر جانبدارانہ ثالثی کے لیے وقف کیا۔امریکی قانون سازوں نے قرارداد میں یہ موقف اپنایا ہے کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے امن کے قیام کے لیے سب سے موزوں ملک ہے۔
قرارداد میں پاکستان کی کوششوں کو بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک مثال قرار دیا گیا۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ پاکستان کے بغیر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ممکن نہ تھا۔اس پیش رفت کو عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سیاسی قد کاٹھ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد ثابت کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب پاکستان کو صرف ایک اتحادی کے طور پر نہیں بلکہ ایک باوقار مصالحت کار کے طور پر تسلیم کر رہی ہیں۔




