اسلام آباد:عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد نئے مالی سال کے بجٹ پر اہم مذاکرات کے لیے آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے حکام اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان باقاعدہ بات چیت کا آغاز کل سے ہوگا، جسے معاشی حلقوں میں مستقبل کے قرضہ پروگرام کے لیے "فیصلہ کن” قرار دیا جا رہا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے نیا وفاقی بجٹ آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد بجٹ کو عالمی معیار کے مالیاتی ڈسپلن کے مطابق بنانا ہے تاکہ نئے بیل آؤٹ پیکیج کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین بجٹ مذاکرات تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران درج ذیل معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔ ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے اہداف کو حتمی شکل دینا، نجکاری، توانائی کے شعبے میں نقصانات کی کمی اور مالیاتی خسارے پر قابو پانا، آئی ایم ایف کی جانب سے بعض رعایتوں کے خاتمے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔
حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ بجٹ تجاویز پر آئی ایم ایف وفد کا مکمل اعتماد حاصل کیا جائے تاکہ ملک میں معاشی استحکام آئے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہو۔ ان مذاکرات کی کامیابی سے پاکستان کے لیے طویل مدتی اور بڑے قرضہ پروگرام کا حصول ممکن ہو جائے گا۔




