ماسکو : واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد اب بیجنگ اور ماسکو نے بھی اپنی بساط بچھا دی ہے۔ روسی صدارتی محل "کریملن” نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ روسی صدر کے دورۂ چین کی تمام سفارتی اور تکنیکی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ عالمی مبصرین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کے فوری بعد شیڈول ہونے والے اس دورے کو نئے عالمی بلاک کی مضبوطی اور امریکہ کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، روسی صدر کا یہ دورہ صرف روایتی ملاقات نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ گہرے سٹریٹجک مقاصد ہیں۔مغربی پابندیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ سخت معاشی پالیسیوں کے خلاف روس اور چین ایک مضبوط معاشی حصار قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس دورے میں دونوں ممالک کے مابین باہمی کرنسیوں میں تجارت کو مزید وسعت دینے اور ڈالر پر انحصار ختم کرنے کی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔




