کراچی: شہر کی بدنام زمانہ منشیات فروش انمول پنکی کے خلاف درج تین مقدمات کی سماعت کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کو انتہائی خطرناک اور امن و امان کے لیے بڑا خطرہ قرار دیے جانے کے بعد عدالتی کارروائی کا مقام تبدیل کر دیا گیا ہے۔
سیشن جج کراچی ساؤتھ نے پولیس اور سکیورٹی حکام کے خدشات کو درست تسلیم کرتے ہوئے ملزمہ کو سٹی کورٹ لانے کے بجائے سینٹرل جیل ہی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ عدالت نے متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ خود سینٹرل جیل کمپلیکس پہنچ کر ملزمہ کے ریمانڈ سے متعلق قانونی کارروائی مکمل کریں۔
آج ہونے والی سماعت کے دوران پولیس ملزمہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گی۔ انمول پنکی کا دو مقدمات میں پہلے ہی جسمانی ریمانڈ منظور کیا جا چکا ہے، جبکہ 13 سے زائد دیگر مقدمات میں وہ عدالتی ریمانڈ پر جیل کاٹ رہی ہے۔
دوسری جانب، پولیس نے انمول پنکی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے سیشن عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ منشیات کے وسیع نیٹ ورک کی تفتیش اور مزید کڑیاں جوڑنے کے لیے ملزمہ کا پولیس کسٹڈی ریمانڈ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔




