بین الاقوامی
Trending

برطانیہ نے بھی افغان مٹی سے دہشت گردی کے خطرات کا اعتراف کر لیا، کابل انتظامیہ سخت کٹہرے میں

 

اسلام آباد / لندن:افغانستان سے آپریٹ کرنے والے عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس اور سرحد پار تخریب کاری کے معاملے پر پاکستان کا اصولی بیانیہ عالمی سطح پر پوری قوت کے ساتھ سچا ثابت ہو گیا ہے۔ برطانیہ نے بھی اب باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ افغان مٹی پر دہشت گرد تنظیمیں بدستور فعال ہیں، جو پورے خطے کی سلامتی کے لیے کسی بھی وقت پھٹنے والے بم کی حیثیت رکھتی ہیں۔

افغانستان کے لیے برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے کابل انتظامیہ کو سخت الفاظ میں باور کرایا ہے کہ افغان سر زمین کو دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں ہمسایہ ممالک اور بین الاقوامی برادری کے خلاف استعمال ہونے سے ہر صورت روکا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں علاقائی امن و امان کو یکسر سبوتاژ کر رہی ہیں۔
سفارتی حلقوں کے مطابق برطانوی نمائندے کا یہ بیان براہِ راست پاکستان کے اس مؤقف کی تائید ہے جو وہ طویل عرصے سے دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر تنظیمیں افغان پناہ گاہوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں سیکیورٹی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

برطانوی سفیر کے اس دوٹوک موقف نے کابل کی طالبان حکومت کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں وہ افغان سر زمین کو مکمل پرامن اور پڑوسیوں کے لیے بے ضرر قرار دیتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کابل انتظامیہ نے ان محفوظ پناہ گاہوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری اور بلا امتیاز ایکشن نہ لیا، تو خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ اور سنگین ہو سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button