واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر باضابطہ اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل جاری ہے اور اسے جمعے تک مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ہمراہ گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کی موجودہ قیادت نے امن کی راہ اختیار کر کے مثبت اور ذمہ دارانہ فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی میں کمی لانا اور عالمی معیشت کو استحکام فراہم کرنا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے پر دستخطی تقریب میں ان کی شرکت کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس امریکا کی نمائندگی کریں گے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران معاہدے کا مسودہ جمعے کے بعد جاری کرے گا جبکہ اس کی تفصیلات آئندہ دنوں میں سامنے آئیں گی۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی صرف اسی صورت میں ہوگی جب تہران معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد کرے گا۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس پیش رفت کو عالمی معیشت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام اور اقتصادی اعتمادکو فروغ دے گا۔




