بلاگز

یہ ملک ہے یا جنگل؟

 تحریر: سعدیہ مجید

یہ ملک ہے یا جنگل؟ — جب معاشرہ اخلاقی انہدام، ڈیجیٹل انتشار اور اجتماعی بے حسی کا شکار ہو جائے

یہ سوال آج کسی ایک ماں کا نہیں، ہر اس انسان کا ہے جو روزانہ کسی بچی کی عصمت دری، کسی معصوم کے قتل، کسی بے گناہ شہری کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت، کسی خاندانی دشمنی میں بہنے والے خون، کسی وراثتی تنازع، کسی لین دین پر ہونے والے قتل، یا کسی عورت کی بے حرمتی کی خبر پڑھ کر اپنے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ جرم کیوں بڑھ رہے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اجتماعی انسانیت ختم ہو رہی ہے؟
قرآن کریم انسان کی جان کو پوری انسانیت کی جان قرار دیتا ہے:
"جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”
(سورۃ المائدہ 5:32)
یہ آیت صرف قتل کی مذمت نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی فلسفہ پیش کرتی ہے کہ ہر جان مقدس ہے، ہر انسان قابل احترام ہے، اور ہر ظلم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں مسئلہ صرف قانون کی کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی زوال (Moral Decay)، اجتماعی بے حسی (Collective Desensitization) اور سماجی اعتماد کے انہدام (Social Breakdown) کا ہے۔
امریکی ماہرِ سماجیات Émile Durkheim نے "Anomie” کا نظریہ پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق جب معاشرے کے اخلاقی اصول کمزور پڑ جائیں، قانون پر اعتماد ختم ہو جائے اور لوگ صحیح اور غلط کے درمیان فرق کھو بیٹھیں تو جرائم بڑھنے لگتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ سماجی حالات اس نظریے کی عملی مثال بنتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسی طرح Albert Bandura کی Social Learning Theory کہتی ہے کہ انسان رویے سیکھتا ہے۔ اگر معاشرہ تشدد، بدزبانی، عورت کی تذلیل اور جرم کو معمول بنا دے تو نئی نسل بھی انہی رویوں کو قبول کرنے لگتی ہے۔
یہاں سوال ڈیجیٹل میڈیا کا بھی ہے۔
کیا سوشل میڈیا جرائم بڑھا رہا ہے؟
جواب سادہ "ہاں” یا "نہیں” میں نہیں۔
سوشل میڈیا نے کئی جرائم بے نقاب بھی کیے ہیں۔ ایسے بے شمار مقدمات ہیں جن میں عوامی دباؤ کے باعث تحقیقات ہوئیں، ملزمان گرفتار ہوئے اور متاثرین کو آواز ملی۔ یہ اس کا مثبت پہلو ہے۔
لیکن دوسری طرف یہی پلیٹ فارم تشدد کی ویڈیوز، جنسی جرائم کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ، نفرت انگیز مواد، جھوٹی خبروں اور سنسنی خیزی کے ذریعے ایک ایسا ماحول بھی پیدا کرتا ہے جسے ماہرین Cultivation Theory (George Gerbner) کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق مسلسل خوف، تشدد اور جرم دیکھنے سے انسان دنیا کو حقیقت سے زیادہ خطرناک سمجھنے لگتا ہے، جبکہ بعض افراد ایسے رویوں کو معمول بھی سمجھنے لگتے ہیں۔
اسی طرح Moral Panic Theory واضح کرتی ہے کہ میڈیا بعض اوقات خوف کو اس حد تک بڑھا دیتا ہے کہ پورا معاشرہ عدم تحفظ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
لہٰذا مسئلہ صرف ڈیجیٹل میڈیا نہیں بلکہ ڈیجیٹل اخلاقیات (Digital Ethics) کا فقدان ہے۔
ایک اور دردناک پہلو مذہب کے نام پر منافقت ہے۔
سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص پیر، صوفی، مبلغ یا اخلاقیات کا علمبردار دکھائی دیتا ہے، مگر عملی زندگی میں بعض لوگ بچوں، عورتوں اور کمزور طبقات کے لیے درندہ ثابت ہوتے ہیں۔
قرآن کریم ایسے دوہرے کردار کے بارے میں فرماتا ہے:
"تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔”
(سورۃ الصف 61:2-3)
دین کبھی ظاہری لباس، لمبی گفتگو یا مذہبی نعرے کا نام نہیں تھا؛ دین عدل، امانت، رحم، دیانت اور انسان کے احترام کا نام ہے
ہر جنسی جرم کے بعد سوال عورت کے لباس، آزادی یا نقل و حرکت پر اٹھایا جاتا ہے، مگر مجرم کی ذہنیت پر کم بات ہوتی ہے۔
تحقیقات مسلسل یہ ثابت کرتی ہیں کہ جنسی جرائم کا بنیادی تعلق طاقت، کنٹرول، نفسیاتی انحراف، سماجی تربیت اور قانون کے خوف کی کمی سے ہے، نہ کہ متاثرہ فرد کے لباس سے۔ہر ماں آج خوف میں جیتی ہے۔ہر باپ اپنی بیٹی کے گھر واپس آنے تک بے چین رہتا ہے۔ہر بچہ محفوظ بچپن کا حق رکھتا ہے۔
یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں؛ یہ پورے معاشرے کے اخلاقی وجود کا سوال ہے۔

اگر دربار عبادت کی جگہ کے بجائے استحصال کا مرکز بن جائیں، اگر تعلیمی ادارے کردار سازی کے بجائے صرف ڈگریاں دیں، اگر خاندان تربیت چھوڑ دے، اگر ریاست قانون نافذ نہ کر سکے، اور اگر میڈیا ذمہ داری کے بجائے صرف ریٹنگ تلاش کرے تو پھر جنگل صرف درختوں سے نہیں بنتا، انسان بھی جنگل بنا دیتے ہیں۔
حل صرف سخت سزا نہیں۔
حل یہ ہے کہ گھر کردار بنائیں، اسکول اخلاق سکھائیں، مسجد انسان دوستی پیدا کرے، میڈیا ذمہ داری نبھائے، عدالت فوری انصاف دے، پولیس قانون کی محافظ بنے، اور ریاست ہر بچے، ہر عورت اور ہر شہری کی جان کو برابر اہمیت دے۔
آخر میں سوال حکومت سے پہلے ہم سب سے ہے۔
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
کیا ہم سچ بولتے ہیں؟
کیا ہم عورت کا احترام کرتے ہیں؟
کیا ہم جھوٹ، ظلم اور نفرت کو اپنے گھروں سے ختم کر رہے ہیں؟
معاشرے صرف آئین سے نہیں، کردار سے بنتے ہیں۔
اور جب کردار گر جاتا ہے تو ترقی یافتہ عمارتیں بھی تہذیب کو بچا نہیں سکتیں۔

یہ ملک جنگل نہیں ہے۔

مگر اگر ہم نے اپنی اخلاقی بنیادیں، دینی اقدار، انسانی ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کو دوبارہ زندہ نہ کیا تو جنگل صرف جغرافیہ میں نہیں، انسانوں کے دلوں میں آباد ہو جائے گا۔

اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button