واشنگٹن: امریکی مڈٹرم انتخابات میں ری پبلکن جماعت کی شکست نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا دیں۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے بعد ٹرمپ کو مواخذے، تحقیقات اور حکومتی پالیسیوں پر سخت پارلیمانی نگرانی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
امریکی صدر نے انتخابی شکست کے بعد اپنے ردعمل میں ڈیموکریٹس کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی تو اس کا نقصان خود ڈیموکریٹک پارٹی کو اٹھانا پڑے گا۔
ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر بات کرتے ہوئے ایران جنگ کو ری پبلکنز کی شکست کی اہم وجوہات میں سے ایک قرار دیا، تاہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو سودمند قرار دینے پر اصرار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور امریکا اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انتخابی شکست کے باوجود ٹرمپ کے ایران سے متعلق سخت مؤقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے اپنی کابینہ میں بھی کسی ردوبدل کا ارادہ ظاہر نہیں کیا اور کہا کہ موجودہ ٹیم کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔
صدر نے ڈیموکریٹس کو قانون سازی کے معاملے پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے غیر ضروری بل پیش کیے تو وہ انہیں صدارتی ویٹو کے ذریعے مسترد کردیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک نئی سیاسی آزمائش ہوگی۔ ایران جنگ، حکومتی اخراجات اور صدارتی اختیارات جیسے معاملات پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرسکتے ہیں۔
امریکی سیاست میں اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ڈیموکریٹس اپنی نئی پارلیمانی اکثریت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ ان چیلنجز کا مقابلہ کیسے کرتی ہے۔




