لاہور: یومِ آزادی کے موقع پر جہاں پوری قوم جذبۂ حب الوطنی سے سرشار ہے، وہیں اقلیتی برادری کے افراد بھی پاکستان سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کستوری لال نے "پیغامِ ماضی” کے تحت 14 اگست 1947 کے بعد اپنے خاندان کے تاریخی فیصلے کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کا بھی اتنا ہی وطن ہے جتنا کسی اور شہری کا۔
کستوری لال نے بتایا کہ اُن کے دادا ہری چند 1947 کی تقسیم کے بعد بھی پاکستان میں مقیم رہے اور یہی فیصلہ کیا کہ یہی سرزمین اُن کی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر، محفوظ اور قابلِ فخر ہے۔
"میرے دادا جی کہا کرتے تھے، بیٹا! تمہارے لیے سب سے محفوظ اور بہتر ماحول یہی ہے۔ اسی لیے ہم نے یہی سرزمین اپنا وطن بنانے کا ارادہ کیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خاندان نسل در نسل پاکستان سے وابستہ رہا ہے اور انہیں فخر ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جو تمام اقلیتوں کو جینے کا حق دیتا ہے۔
کستوری لال کا کہنا تھا کہ:
"ہماری پوری نسل نے یہی طے کیا کہ اسلامی معاشرے میں ہمارا جینا، اٹھنا بیٹھنا زیادہ پُرامن اور باوقار ہے۔”
یومِ آزادی پر ان کا یہ پیغام نہ صرف قومی وحدت کا عکاس ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان صرف ایک مذہب یا قوم کا نہیں بلکہ ان تمام افراد کا وطن ہے جو اسے دل سے اپناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیغامِ ماضی میں چھپی قربانیوں کی صدائیں آج بھی ہمیں وحدت، وفا اور قربانی کا سبق دیتی ہیں۔ یہ دن صرف جشن کا نہیں، بلکہ اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ترقی، استحکام اور رواداری کی راہ پر گامزن رکھیں گے۔




