غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹڑز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی اپنے گیارہ سالہ دورِ اقتدار کے سب سے مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف روایتی حریف پاکستان کے ساتھ متنازع جنگ بندی، دوسری جانب عمر سے متعلق بڑھتی ہوئی تنقید، اور تیسری طرف امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری۔ یہ تمام عوامل مل کر مودی کی سیاسی بصیرت اور قیادت کو پہلے سے کہیں زیادہ کڑی آزمائش میں ڈال رہے ہیں۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مودی کو اپوزیشن کی طرف سے 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ یہ صورتحال اُس وقت مزید پیچیدہ ہو رہی ہے جب بھارت کی ایک اہم ترین ریاست بہار میں سخت انتخابی معرکہ قریب آ رہا ہے۔
رائٹرز نے لکھا کہ اگرچہ ریاستی اسمبلی میں شکست مودی کی قومی پارلیمان میں پوزیشن کو متاثر نہیں کرے گی، لیکن یہ اُن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا، خاص طور پر ایسے رہنما کے لیے جو گزشتہ ایک دہائی سے مضبوط گرفت کے ساتھ اقتدار میں ہیں۔
صورتحال مزید پیچیدہ اس وقت ہوئی جب اس ہفتے ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت سے درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جو دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے سب سے زیادہ شرح میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید دھچکا پہنچا رہا ہے، حالانکہ چھ ماہ پہلے تک ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی ایک دوسرے کو قریبی دوست قرار دے رہے تھے اور گرم جوشی سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔
نئی دہلی کی سیاسی تجزیہ کار آرَتی جیراتھ
"امریکا-بھارت تعلقات بڑی حد تک ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی شخصیات کے گرد گھومتے تھے۔ اب جب یہ تعلقات سرد پڑ رہے ہیں، مودی کے پاس کوئی متبادل بفر نہیں رہا۔ ایک مضبوط لیڈر ہونے کا دعویٰ کرنے والے مودی کی پالیسیوں میں وہ سختی نظر نہیں آ رہی جس کا وہ وعدہ کرتے رہے ہیں۔”
مودی نے تاہم حالیہ دنوں میں جارحانہ لہجہ اپنایا ہے۔ جمعرات کو ایک عوامی تقریب میں اُنہوں نے کہا کہ بھارت اپنے کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کے مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ میں جانتا ہوں کہ اس مؤقف کی ذاتی طور پر مجھے بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے، مگر میں اس کے لیے تیار ہوں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکا کے ساتھ ٹیرف تنازع بہار کی آئندہ انتخابی مہم کا اہم موضوع بن سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر اگلے ماہ شروع ہوگی۔ تاہم، سروے ادارہ ووٹ وائب (VoteVibe) کے بانی امیتابھ تیواری کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن بنیادی طور پر "مقامی مسائل” پر مرکوز ہے، جن میں سب سے نمایاں مسئلہ بے روزگاری ہے۔ ان کے مطابق، ٹرمپ مخالف کسی بھی قوم پرستانہ ردعمل کا بہار کے ووٹروں پر محدود اثر ہوگا۔




