خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مون سون بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 224 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں جاں بحق افراد کی تعداد 206 سے تجاوز کر گئی ہے، جہاں بونیر ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بونیر کے 12 سے زائد دیہات کلاؤڈ برسٹ سے شدید متاثر ہوئے اور یہاں اب تک 157 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں باجوڑ، مانسہرہ، بٹگرام، سوات اور شانگلہ شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 60 سے زائد ہے۔
آزاد کشمیر میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 8 افراد ہلاک ہوئے جن میں مظفرآباد کے ایک ہی خاندان کے 6 افراد شامل ہیں۔ رتی گلی بیس کیمپ میں پھنسے ہوئے 500 سے زائد سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ آزاد کشمیر کی شاہراہ کوہالہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہے۔
گلگت بلتستان میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 10 افراد جان بحق ہوئے۔ غذر میں 8 اور ضلع دیامر میں 2 افراد کی موت ہوئی۔ سیلابی ریلے کی وجہ سے نلتر پاور اسٹیشن تباہ ہو گیا ہے جس سے پورا گلگت شہر بجلی سے محروم ہو گیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، پی ڈی ایم اے اور دیگر ریسکیو ادارے امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں، جنہوں نے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کی بارشیں 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔




