اوسلو: بیلجیئم نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوٹ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس باقاعدہ اعلان کو پیش کریں گے۔
بیلجیئم کی جانب سے اسرائیل کے خلاف 12 سخت قومی پابندیاں بھی نافذ کی جا رہی ہیں، جن میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں سے پیدا شدہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی، اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں کا دوبارہ جائزہ، اور اسرائیلی پروازوں و ٹرانزٹ پر پابندی شامل ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات خاص طور پر فلسطین، بالخصوص غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندیاں اسرائیلی عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے۔
بیلجیئم فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے بعد فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے والا ایک اور ملک بن گیا ہے۔ اس اعلان کا باقاعدہ اظہار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متوقع ہے۔




