تیانجن: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ سے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر اہم ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوستی اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کو شنگھائی تعاون تنظیم کے کامیاب اجلاس اور فسطائیت کے خلاف جنگ میں فتح کی 80ویں سالگرہ پر مبارکباد دی۔ انہوں نے چین کی ترقی کو صدر شی کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتا ہے اور اس سفر میں چین کے ساتھ شانہ بشانہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان میں بندرگاہوں، توانائی، زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو مضبوط بنانے کا نیا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کو بیرونی عناصر سے جوڑا اور چین سے اپیل کی کہ جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی راہنمائی کرے تاکہ خطے میں امن و ترقی ممکن ہو۔
شہباز شریف نے جانوروں کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے چینی تجربے سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا اور لائیو اسٹاک کو ملک کی زرعی معیشت کا اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے چینی صدر کی عالمی امن و ترقی کے لیے پیش کی گئی تجاویز جیسے گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے یقین دہانی کروائی کہ چین سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سراہا اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کو "بے مثال اور منفرد” قرار دیتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کو 2026 میں پاکستان اور چین کی دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر سرکاری دورے کی دعوت دی، جسے صدر شی نے خوش دلی سے قبول کیا۔
اس کے علاوہ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے تیانجن میں آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات میں پاکستان اور ایران کے سیاسی و اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات اور بیجنگ کے ایک مقامی اسپتال کے دورے کا بھی شیڈول شامل تھا۔




