اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کی فوری بحالی اور امداد کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نادرا میں غیر رجسٹرڈ متاثرین کی شناخت اور مالی معاونت کے لیے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کو وزیراعظم کی زیر صدارت طوفانی بارشوں اور سیلاب کی موجودہ صورتحال پر اجلاس میں کیا گیا۔
وزیراعظم نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو آئندہ مون سون سیزن کے لیے دو ہفتوں میں جامع حکمت عملی پیش کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کی تیاری مکمل کی جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے وسطی اور جنوبی حصوں میں داخل ہو چکے ہیں، اور پنجند پر 10 سے 12 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل ہیں۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 4100 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں 6300 ٹن سے زائد امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے اور 2400 سے زائد طبی کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ بجلی کی فراہمی میں 80 فیصد بحالی کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جبکہ متاثرہ پلوں اور سڑکوں کو مرمت کر کے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ متاثرین کی بروقت امداد اور انخلاء کے اقدامات کی سختی سے نگرانی کی جائے۔ انہوں نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، پاک فوج اور دیگر متعلقہ اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔




