پاکستان

کراچی: طوفانی بارشوں نے شہر کا نظام زندگی درہم برہم کر دیا، تھڈو ڈیم اوور فلو، ملیر اور لیاری کی ندیاں دریا بن گئیں

کراچی : کراچی میں گزشتہ چند گھنٹوں سے وقفے وقفے سے جاری طوفانی بارشوں نے شہر کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ تھڈو ڈیم اوور فلو ہونے کی وجہ سے ملیر اور لیاری کی ندیاں دریاؤں کی صورت اختیار کر چکی ہیں اور پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

شدید بارشوں کے باعث سعدی ٹاؤن، سکیم 33، ملیر، ایم نائن، سہراب گوٹھ، خمیسو گوٹھ، مچھر کالونی سمیت کئی دیگر علاقوں میں پانی بھر گیا ہے۔ ملیر اور لیاری کی ندیاں تاریخی حدوں کو چھو رہی ہیں جس کے باعث قریبی آبادیوں میں رہائشی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122، پاک فوج اور پاکستان رینجرز کے اہلکار امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ سعدی ٹاؤن اور آس پاس کے علاقوں سے 10 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ پاک فوج اور رینجرز کے دستے بھی ریسکیو آپریشنز میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ 8 سے 9 گھنٹوں میں مزید موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بارشیں ہوا کے کم دباؤ میں تبدیل ہو کر 11 ستمبر کو بلوچستان کے ساحل پر ختم ہو جائیں گی۔ کراچی کے شمال میں تیز بارش برسانے والے بادل موجود ہیں جو شہر میں مزید بارشوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے رات بھر شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے انتظامیہ، پاک فوج اور رینجرز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ میئر نے بتایا کہ موٹروے بند کرنے کا مقصد شہری جانوں کو بچانا ہے اور امید ہے کہ چند گھنٹوں میں پانی کی سطح میں کم ہو جائے گی۔ اب تک 200 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تھڈو ڈیم کے پانی کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے اور عوام کو صورتحال سے باخبر رکھنے کے لیے خصوصی حکمت عملی اپنانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تھڈو ڈیم کے سپل وے سے بہنے والے پانی میں ایک گاڑی بہہ گئی تھی جس میں سوار 4 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں، نکاسی آب کی صورت حال پر نظر رکھیں اور ریسکیو ٹیموں کے تعاون کریں۔ متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے تاکہ امدادی کارروائیاں تیز اور مؤثر ہو سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button