تحریر : وجیہہ تمثیل مرزا
پاکستان اور بھارت دبٸی میں چھ ماہ کے اندر اندر دوسری بار آمنے سامنے ہوں گے۔ ایک بات ہے کہ میزبانی کے حقوق کے شیڈول کے مطابق ہندوستان کو ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنی تھی اور جب کہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا ( BBCI ) ٹورنامنٹ کا باضابطہ میزبان ہے۔ لیکن پاک و ہند تنازع کی وجہ سے دبٸی صاحب کو میزبانی کا شرف حاصل ہوا ہے۔
لیکن ایک بات ہے جب تنازع کی وجہ سے میچ بھارت کی بجاۓ دبٸی شفٹ ہو چکا ہے تو کیا اس تنازع کو لے کر بھارتی ٹیم یا ان کے شاٸقین امن و امان قاٸم رکھ سکیں گے ؟ یا وہ کھیل کے میدان کو میدان جنگ بناٸیں گے ؟ بھٸ ظاہر سی بات ہے جہاں مٸی 2025 کو پاک بھارت کی باقاعدہ جنگ ہوٸی ہے اور اس کے بعد بھی بھارت کو وقفے وقفے سے آفٹر شاکس پڑتے ہی جاتے ہیں تو کیا ایشیاء کپ کا اتنا بڑا میچ با خیر و آفیت گزر جاۓ گا ؟ جہاں تک میرا اندازہ ہے لگتا ہے یہ محاز 14 ستمبر کو دبٸی کے میدان میں تو کھلنے جا ہی رہا ہے لیکن خدشہ ہے کہ کھیل کے میدان سے شروع ہو کر کہیں بھارت بھر بارڈر لاٸن پر محاز نہ کھول بیٹھے۔ پاک بھارت ایشیاء کپ ٹاکرا اتوار کو دبٸی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں شام 6:30 پر شروع ہو گا۔ اتوار کو موسم کی پیشن گوٸی ہے کہ موسم مرطوب رہے گا اور جزوی بادل بھی چھا سکتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے بھارتی عوام کے جذبات ابھی سے مرطوب ہونا شروع ہو گۓ ہیں اور اگر پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جوش و جذبے کا مظاہرہ کرنا چاہا تو بھارتی ٹیم اور عوام دونوں پر جزوی بادل چھا سکتے ہیں۔
کھیل میں سب سے شدید اور سب سے زیادہ پیروی کی جانے والی ٹیم ایک بار پھر اس وقت روشنی میں آئے گی جب کرکٹ کے T20 ایشیا کپ 2025 میں ہندوستان کا پاکستان کے ساتھ مقابلہ ہوگا۔
دونوں ٹیمیں T20 انٹرنیشنل میں اپنی حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے اعتماد کی لہر پر سوار ہوں گی۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آخری ملاقات اسی مقام پر، دبئی میں 23 فروری کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے گروپ مرحلے میں ہوئی تھی۔

وجیہہ تمثیل مرزا پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجوٸشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔




