بین الاقوامی

مودی حکومت کے انتخابات سے قبل انتخابی نظام پر سوالات، بہار میں ووٹر لسٹ سے لاکھوں افراد کے اخراج کا خدشہ

نئی دہلی :مودی سرکار کی زیرِ قیادت بھارتی ریاست بہار میں آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی نظام کی شفافیت اور ساکھ شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے نیا این آر سی بغیر قانون سازی کے نافذ کرنے اور ووٹر فہرست میں منظم تبدیلیوں کی تیاریاں انتخابی عمل کو متاثر کرنے کا خدشہ ظاہر کرتی ہیں۔

بھارتی اخبار دی وائر کی رپورٹ کے مطابق، بہار میں مسلم اکثریتی علاقوں کی انتخابی فہرستوں میں خصوصی نظرِ ثانی کے تحت لاکھوں افراد کو ووٹر لسٹ سے نکالنے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے عام شناختی دستاویزات جیسے آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود اس عمل پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے شہریت کے تعین کو وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں قرار دیا ہے، تاہم الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ وہ صرف آئین کے آرٹیکل 326 کے تحت اہل اور غیر اہل افراد کے اندراج اور اخراج کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

مودی حکومت کی جانب سے این آر سی کے انداز میں کیے جانے والے یہ اقدامات مسلم اکثریتی علاقوں کو نشانہ بنانے کی واضح کوشش ہیں، جو بھارت کے جمہوری نظام اور انتخابی عمل کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان ہیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے حالیہ اقدامات کو آئینی حدود سے تجاوز اور اقلیتوں کے خلاف غیر منصفانہ رویہ قرار دیا جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر بھارت کی جمہوری ساکھ کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button