نارووال: وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب سے شدید متاثرہ نارووال کا دورہ کیا، جہاں حکام نے انہیں سیلاب کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بتایا کہ مون سون کے پہلے مرحلے میں پہاڑی علاقوں میں شدید بارشیں ہوئیں اور اب یہ سلسلہ میدانی علاقوں میں بھی جاری ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر اور سیالکوٹ ریجن میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے دریاؤں میں طغیانی کا سامنا ہے، خاص طور پر خانکی اور قادرآباد میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر پیشگی اطلاعاتی نظام کی بدولت نقصان کم سے کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اور آئندہ سالوں میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اور دیگر اداروں کو مزید متحرک کرنا ہوگا۔ انہوں نے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نئے چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا اور قلیل، درمیانے اور طویل المدت پالیسیوں کی تیاری کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے بتایا کہ نارووال سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے اور امدادی کاموں کو تیز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں مویشیوں کے لیے پانی اور چارے کے انتظامات اور ہزاروں کلینکس کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ پاک فوج بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ نارووال میں فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں اور کئی مقامات پر سڑکیں منقطع ہو چکی ہیں۔
وزیراعظم نے پنجاب میں ریسکیو، پولیس، پی ڈی ایم اے اور پاک فوج کو دن رات کام کرنے پر سراہا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں تاکہ جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔




