اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے آج 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی، جس کا مقصد عدالتی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات لانا ہے۔
مسودے کے مطابق ملک میں سپریم کورٹ سے علیحدہ وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا۔ چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال ہوگی جبکہ ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی تنازعات، آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہوگا۔
عدالتی اختیارات میں تبدیلی کے تحت سپریم کورٹ کے کچھ آئینی اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوں گے، جبکہ ججز کی تقرری کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان شامل ہوں گے۔
عسکری ڈھانچے میں بھی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم، آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ اور فیلڈ مارشل کو قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے گا۔
حکومتی سطح پر بھی اصلاحات کی گئی ہیں: وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار اور وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔
کابینہ کی منظوری کے بعد ترمیم کا مسودہ پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔




