بین الاقوامی

انڈین چیف آف ڈیفنس: طیارے گرائے جانا نہیں، بلکہ وجہ اہم ہے

انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں پہلی مرتبہ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘

سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے موقع پر سنیچر کے روزبلوم برگ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ حالیہ تنازع کے دوران پاکستان نے انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے گرانے میں کامیاب ہوا یا نہیں؟ تو انیل چوہان نے پاکستان کے اس دعوے کو ’قطعی طور پر غلط‘ قرار دیا کہ اس نے انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرائے گئے۔‘ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انڈیا نے کتنے طیارے کھوئے۔

چوہان نے کہا ’طیارے کیوں گرے، کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘

پاکستان کی جانب سے انڈین طیارے گرائے جانے کے دعوے کی اس سے قبل انڈیا نے تصدیق یا تردید نہیں کی تھی اور انڈیا کے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ اس بارے میں جواب صحیح وقت پر دیں گے۔

پاکستانی فوج کا ’رفال سمیت پانچ انڈین جنگی طیارے‘ گرانے کا دعویٰ: بی بی سی ویریفائی کا تجزیہ اور بھٹنڈہ کے یوٹیوبر کی کہانی

انڈین فضائیہ (آئی اے ایف) کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے ایک پریس بریفننگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’جنگ میں نقصان معمول کی بات ہے‘ لیکن انھوں نے بھی پاکستانی دعوے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا۔

خیال رہے پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس سے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب انڈیا کے 6 طیارے مار گرائے جن میں تین رفال بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ ان میں نظر آنے والا ملبہ فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کا ہے۔ اسی نوعیت کی ایک تصدیق واشنگٹن پوسٹ بھی کر چکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button