پاکستان

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے تباہی، 17 افراد جاں بحق

گلگت بلتستان : گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور گلیشیئر پھٹنے کے باعث قدرتی آفت نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں کے سبب نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جبکہ مختلف حادثات میں کم از کم 17 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

گلگت کے ضلع غذر کی تحصیل گوپس کے گاؤں خلتی میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر 8 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ دیامر میں دو افراد سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں۔ ہنزہ، نگر اور سکردو سے بھی متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سیلاب کے باعث متعدد گھروں، سرکاری عمارتوں، پلوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ کھڑی فصلیں اور درخت بھی بہہ گئے ہیں۔

شاہراہِ قراقرم، بابوسر ٹاپ اور گلگت سکردو روڈ پر کئی مقامات پر رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے اندرون علاقوں تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کی تحصیل نصیر آباد میں بادل پھٹنے کے باعث ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں اور فلیش فلڈنگ کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے، جس سے نقل و حمل کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔

وادی نیلم میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد پل اور سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔ رتی گلی کے علاقے میں سینکڑوں سیاح پھنس گئے ہیں، جن میں سے 100 کو ریسکیو کر لیا گیا ہے، اور باقی کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

سکگین صورتحال  کے پیش نظر وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دریاؤں کے قریب آباد تمام علاقوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

موسم کاحال بتانے والے ادارے نے آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں خطرات بدستور موجود ہیں۔ حکومت اور ریسکیو ادارے عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ متاثرہ علاقوں کا سفر نہ کریں اور مقامی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button