لندن : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دشمن خارجہ پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھنے کے خواہاں نہیں ہیں، تاہم دہشت گردی کے چیلنج کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں سے بات چیت میں وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت، سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی جیسے اہم امور پر وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مسلسل مشاورت کرتے رہتے ہیں اور یہی یکسوئی ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مؤثر ثابت ہو گی۔ انہوں نے افواج پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ افواج نے بھارت کے خلاف بھرپور دفاع کیا اور پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک تاریخی معرکے میں فتح حاصل کی، جسے بھارت "کبھی نہیں بھولے گا”
انہوں نے نیویارک اور واشنگٹن کے حالیہ دوروں کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں غزہ کی صورتحال پر ہونے والا اجلاس ایک اہم پیشرفت تھی، جس میں قطر، سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات اور مصر کی شرکت قابلِ ذکر رہی۔ وزیراعظم نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا؛ علاوہ ازیں، انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے پاک-بھارت جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا اور ان کوششوں کے اعتراف میں پاکستانی قوم نے صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کو شہباز شریف نے "تاریخی پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ حرمین شریفین کے دفاع اور علاقے کے امن کے لیے ہے، اور پاکستان اس مقدس فریضے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
معاشی امور کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ معیشت مضبوط بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے میں بہتری کے لیے 1000 زرعی گریجویٹس کو چین میں جدید تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے اور ملک قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس سلسلے میں امریکی صدر کی طرف سے اقتصادی تعاون کی یقین دہانی بھی ملی ہے۔
غزہ میں جاری انسانی المیے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی بات کی۔ کشمیر کے مسئلے پر بھی انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی فورمز پر بھرپور آواز اٹھا رہا ہے اور اس دیرینہ تنازع کے حل کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مقصد کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کو روکنے والے عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔




