کراچی :حکومتِ سندھ نے تعلیمی میدان میں تاریخی اقدامات اٹھاتے ہوئے صوبے کی جامعات کے لیے ریکارڈ 42 ارب روپے کا بجٹ مختص کر دیا ہے، جب کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنے کے لیے پیپلز آئی ٹی پروگرام (PITP) کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق پیپلز آئی ٹی پروگرام صوبے میں نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے کا ایک کامیاب ماڈل بن چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں 13,565 نوجوانوں کو جدید آئی ٹی شعبوں میں تربیت دی گئی، جب کہ بہترین کارکردگی دکھانے والے 300 طلبہ کو گوگل کروم بکس اور لیپ ٹاپس فراہم کیے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 1.4 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں 12 ہائی ڈیمانڈ آئی ٹی شعبوں میں 35,000 نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔
شرجیل میمن کے مطابق، مالی سال 2025-26 میں صوبائی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے، خصوصاً جامعات کی بہتری کے لیے 42 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو کسی بھی صوبے کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کی گئی سب سے بڑی رقم ہے۔
ان کے مطابق، فوڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی نئی عمارت این ای ڈی یونیورسٹی میں 96.481 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے، جبکہ انٹرنیشنل بوائز ہاسٹل کا منصوبہ بھی 67.11 ملین روپے میں مکمل ہوا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے سندھ حکومت کے اعلیٰ تعلیمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنے کے عزم کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ "تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری صوبے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے”۔




