کراچی : کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے گل پلازہ سانحے کی حتمی رپورٹ مکمل کر لی ہے، جس میں واقعے کی وجوہات اور ہلاکتوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 79 افراد میں سے زیادہ تر کی اموات دم گھٹنے اور تپش کے باعث میزنائن فلور پر ہوئیں۔
رپورٹ میں واقعے کے ایک ایک منٹ کا ریکارڈ جمع کیا گیا ہے، آغاز: رات 10:15 بجے گراؤنڈ فلور پر واقع فلاور شاپ میں ایک بچے کے ہاتھوں نادانستہ طور پر آگ لگی، ایئر کنڈیشننگ کے ڈکٹس (Ducts) نے آگ اور دھوئیں کو چمنی کی طرح اوپر کی منزلوں تک پہنچایا، جس سے آگ تیزی سے پھیلی،فائر بریگیڈ کو رات 10:26 بجے مطلع کیا گیا۔ اطلاع ملنے کے 11 منٹ بعد یعنی 10:37 بجے پہلا فائر ٹینڈر موقع پر پہنچا، جبکہ ڈپٹی کمشنر جنوبی رات 10:30 بجے ہی وہاں پہنچ چکے تھے۔
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق عمارت کے ڈیزائن اور اے سی ڈکٹس کے باعث زہریلا دھواں سب سے پہلے میزنائن فلور پر جمع ہوا، جہاں موجود لوگوں کو نکلنے کا موقع نہ مل سکا اور یہی جگہ سب سے زیادہ جانی نقصان کا باعث بنی۔
کمشنر کراچی یہ جامع رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کریں گے، جس میں عمارتوں کے حفاظتی نظام اور ہنگامی اخراج کے راستوں (Emergency Exits) کے حوالے سے سخت سفارشات شامل کی گئی ہیں۔
0 7 1 minute read




