لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (TLP) پر پابندی کی منظوری دے دی ہے، اور اس حوالے سے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی جان و مال اور امن و امان کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے، اور کوئی بھی گروہ جو پُرتشدد راستہ اپنائے، ریاست اسے برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے نام پر دی گئی احتجاجی کال کا کوئی جواز نہیں تھا، کیونکہ یہ کال امن معاہدے کے بعد دی گئی۔ احتجاج کی آڑ میں سڑکیں بند کرنا، پولیس پر حملے کرنا، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے۔
عظمیٰ بخاری نے انکشاف کیا کہ مذہبی جماعت کے حالیہ احتجاج میں 1648 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مظاہرے پُرامن نہیں تھے۔
انہوں نے تاجر برادری اور عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے احتجاج اور ہڑتال کی کال کو مسترد کیا، اور کہا کہ پاکستانی عوام باشعور ہیں اور کسی شدت پسندانہ بیانیے میں نہیں آئیں گے۔




