اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اداروں میں ترقی و تقرری کے نظام پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ "جس ادارے میں سنیارٹی کا اصول توڑا گیا، وہاں مسائل نے جنم لیا۔ سارے اداروں کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "کسی کو اپنا پسندیدہ افسر آگے لانا ہے، تو کسی کو رشتہ دار کی سفارش درکار ہے۔”
عدالت نے واضح کیا کہ سنیارٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ اداروں کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جسٹس کیانی نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹ کا کام ہے اپنی غلطیوں کو درست کرے۔ غلطی کی سزا نہیں، بدنیتی کی سزا ضرور ہوتی ہے۔”
سماعت کے دوران عدالت نے حکومتی اداروں کو اصول و ضوابط کی پاسداری کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔




