واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے اپنے ایشیا کے دورے کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے، جس کی تصدیق وائٹ ہاؤس نے کی ہے۔ یہ ملاقات اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے اور اس ملاقات کو تجارتی معاملات اور عالمی اقتصادی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیوٹ نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ آج رات ملائشیا روانہ ہوں گے، جہاں وہ جاپان اور جنوبی کوریا کا بھی دورہ کریں گے۔ ایپک (ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن) کے اجلاس میں شرکت کے بعد، وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا یہ دورہ مختلف ملاقاتوں پر مشتمل ہو گا۔ اتوار کو وہ ملائشیا کے وزیراعظم انوار ابراہیم سے ملاقات کریں گے اور جنوبی مشرقی ایشیا کے رہنماؤں کے ساتھ عشائیے میں شریک ہوں گے۔ پیر کو جاپان میں انہوں نے نومنتخب وزیراعظم ساناتے تائچی سے ملاقات کی۔ بدھ کے روز جنوبی کوریا میں ان کی ملاقات صدر لی جائے میونگ سے ہو گی۔ اس کے بعد وہ ایپک فورم میں سی ای اوز کے ساتھ ظہرانے میں شرکت کریں گے اور ایپک کے رہنماؤں کے لیے دی جانے والی عشائیے کی تقریب میں بھی شریک ہوں گے۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کئی مہینوں سے جاری ہے، اور اکتوبر میں اس میں مزید شدت آ گئی تھی جب چین نے نایاب زمینی معدنیات کی برآمدات پر پابندی لگا دی، جس کا اثر دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات پر پڑ رہا ہے۔ اس پس منظر میں، ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات اہم تجارتی اور اقتصادی مذاکرات کا موقع فراہم کرے گی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی حد تک بہتری کی توقع کی جا رہی ہے.




