اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پی آئی اے کے برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن کی بحالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے پی آئی اے کا پاکستان اور برطانیہ کے درمیان فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ ایک اہم قدم ہے جو نہ صرف قومی فضائی کمپنی کی ساکھ کی بحالی میں مدد فراہم کرے گا بلکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان فضائی روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔
تقریب کے دوران خواجہ آصف نے پی آئی اے کے برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن کا باقاعدہ افتتاح کیا، جس میں برطانوی ہائی کمشنر اور سیکرٹری دفاع بھی موجود تھے۔ وزیر دفاع نے اس موقع پر کہا کہ پی آئی اے کے روٹس کی بحالی سے حکومت کو مالی نقصان سے بچایا جائے گا اور قومی فضائی کمپنی کی معیاری خدمات کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی آئی اے کی ساکھ کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جن میں برطانوی ہائی کمشنر کا کردار بھی اہم رہا۔
پی آئی اے کی مانچسٹر کے لیے پہلی براہ راست پرواز آج دن 12:05 پر روانہ ہو گی۔ یہ پرواز بوئنگ 777 طیارے کے ذریعے 273 مسافروں کو لے کر مانچسٹر روانہ ہوگی۔ پی آئی اے ابتدائی طور پر اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار دو پروازیں آپریٹ کرے گا، جو ہفتے اور منگل کو روانہ ہوں گی۔ پی آئی اے کی پرواز پی کے 701 برطانوی وقت کے مطابق شام 5 بجے مانچسٹر پہنچے گی، اور پھر مانچسٹر سے واپس اسلام آباد کے لیے شام 7 بجے روانہ ہوگی، جو صبح 7 بجے اسلام آباد پہنچے گی۔
پی آئی اے کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ دوسرے مرحلے میں لندن کے لیے پروازیں بھی شروع کی جائیں گی۔ پانچ سال قبل برطانیہ اور یورپ نے پی آئی اے پر پابندی عائد کر دی تھی، تاہم اب یہ پابندی بحال کر دی گئی ہے، جس سے پی آئی اے کی خدمات کو ایک نیا موقع ملے گا۔
وزیر دفاع نے اس کامیابی کو پی آئی اے کے عملے کی محنت اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت کی معاونت کا نتیجہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ نیا آغاز پی آئی اے کو عالمی فضائی کمپنیوں کی صف میں کھڑا کر دے گا۔




