وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب نے آٹے کی فراہمی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی اور ملک کے دیگر حصوں کو شفاف طریقے سے آٹا پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی ضرورت پنجاب سے حاصل شدہ آٹے سے بڑھ گئی ہے، لہٰذا وہاں کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذخیرہ شدہ گندم جاری کرے یا پاسکو سے خریداری کرے۔
عظمی بخاری نے کہا کہ پنجاب کا حق کسی دوسرے صوبے کے سیاسی تماشوں کے باعث متاثر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کے پی میں دو سو سے زائد فلور ملز بند پڑی ہیں، اور وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کو مشورہ دیا کہ احتجاج کے بجائے اپنے صوبے کی فلور ملز کو فعال کرنے پر توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت آٹے کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔




