پاکستان

بلیو اکانومی پاکستانی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی، محمد اورنگزیب

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بلیو اکانومی پاکستانی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔ وہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس 2025 سے ورچوئل خطاب کر رہے تھے، جس میں انہوں نے بلیو اکانومی کی اہمیت اور پاکستانی معیشت کے لیے اس کے ممکنہ فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی معیشت مثبت سمت میں چل رہی ہے، اور بلیو اکانومی کو اپنانا معیشت میں ایک انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت معیشت میں بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، جو مستحکم ترقی اور پائیدار معاشی بہتری کے لیے ضروری ہیں۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ معاشی استحکام کے لیے اقدامات کا آغاز ڈھائی سال پہلے کیا گیا تھا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، افراط زر اور پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، اور تین عالمی ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کے معاشی اقدامات کو سراہا ہے، جو حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا غماز ہے۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی تجارت اور معیشت کی ترقی کے لیے دوست ممالک کا تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے جاری اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے تجارتی شعبے کو نئی بلندیاں دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معیشت کی ترقی کے لیے مختلف وزارتوں کے درمیان بہترین ہم آہنگی موجود ہے اور وزارت خزانہ معاشی استحکام کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔ محمد اورنگزیب کے مطابق، بلیو اکانومی کے تحت سمندری وسائل اور تجارتی راستوں کے فوائد کا استعمال پاکستان کی اقتصادی ترقی کو مزید تیز کرے گا۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اس کے لیے ایک اہم فائدہ ہے، اور بلیو اکانومی کے ذریعے سمندری تجارت، ماہی گیری، اور سمندری توانائی جیسے شعبوں میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button